اقبال اکادمی پاکستان
  English  

مشرقی دل و دماغ صدیوں سے اس سوال میں مُستَغَرق ہے کہ کیا خدا کا وجود ہے؟ میں نیا سوال کرنے کی جسارت کر رہا ہوں جو کہنے کو مشرق کے لیے نیا ہے کہ کیا انسان کا وجود ہے؟

(شذدراتِ فکرِ اقبال)

 


اقبال اکادمی آرڈینینس، ۱۹۶۲


(۱۹۶۲ کا ۲۶واں)

اقبال اکادمی پاکستان

اقبال اکادمی آرڈینینس، ۱۹۶۲
۱۹۶۲ کا آرڈینینس نمبر ۲۶
[۲۹ مئی، ۱۹۶۲]

اقبال اکادمی ایکٹ ۱۹۵۱ کو منسوخ کرنے اور چند تبدیلیوں کے ساتھ دوبارہ نفاذ کرنے کے لیے آرڈینینس۔

ہر گاہ اکادمی کی انتظامیہ اور کام کاج کی استعداد میں بہتری لانے کے لیے اقبال اکادمی ایکٹ ۱۹۵۱ کو منسوخ کر کے چند تبدیلیوں کے ساتھ دوبارہ نفاذ کرنا قریں مصلحت ہے؛

لٰہذا اب ۷ اکتوبر، ۱۹۵۸ کے حکم نامے اور اس بارے میں تمام اختیارت کی تعمیل میں، صدر درج ذیل آرڈینینس وضع کرتا ہے:-

باب اول

ابتدائیہ

1۔ مختصر عنوان، اطلاق و نفاذ۔ - (۱) یہ آرڈینینس اقبال اکادمی آرڈینینس، ۱۹۶۲ کے نام سے موسوم ہو گا۔
۲۔ اس کا اطلاق تمام پاکستان پر ہو گا۔
۳۔ یہ فی الفور نافذ العمل ہو گا۔

۲۔ تعریفات۔ ماسوائے اس کے کہ اس آرڈینینس میں کوئی امر متن یا سیاق کے منافی نہ ہو:
(الف) "اکادمی" سے مراد دفعہ ۳ کے تحت قائم کردہ اقبال اکادمی ہے۔
(ب) "ایکٹ" سے مراد اقبال اکادمی ایکٹ ۱۹۵۱ (۱۹۵۱ کا چھٹا) ہے۔
(ج)"ہیتِ حاکمہ" سے مراد اکادمی کی ہیتِ حاکمہ ہے۔
(د) "مجلسِ عاملہ" سے مراد اکادمی کی مجلسِ عاملہ ہے۔
(ہ) "مقررہ" سے مراد اس آرڈینینس کے تحت وضع قوائد کے تحت مقرر کردہ ہے۔
(و) "صدر"، "نائب صدر"، "خازن"، "اعزازی اراکین"، "تاحیات اراکین" اور اراکین سے مراد بالترتیب اکادمی کا صدر، نائب صدر، خازن، اعزاری اراکین، تاحیات اراکین، اور اراکین ہیں۔

باب دوئم
اکادمی

3۔ اکادمی۔ (۱) اس آرڈینینس کے تحت ایک اکادمی قائم کی جاتی ہے جو اقبال اکادمی کہلائے گی۔
(2) اکادمی ایک کارپوریٹ ادارہ ہو گا جس کا دوامی تواتر اور مہرِ عام ہو گی اور اپنے نام سے مقدمہ قائم کرنے اپنے مقدمے کا سامنا کر سکے گی۔
(۳) اکامی ایس تمام منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد حاصل کرنے، قبضے میں رکھنے، کرائے پر دینے، فروخت یا کسی دیگر طریقے سے انتقال کرنے کے اختیارات کی حامل ہو گی جو اس کے تصرف میں دی جائیں گی یا یہ حاصل کرے گی۔ اکادمی اس آرڈینینس کے مقاصد کے حصول کے لیے معاہدے کرنے اور تمام دیگر ضروری کام کرنے کا اختیار بھی رکھتی ہو گی۔
(۴) اکادمی کا تنظیمی خاکہ۔ --(۱) اکادمی درج ذیل پر مشتمل ہو گی---
(الف) سرپرستۃ اعلیٰ
(ب) سرپرست
(ج) صدر
(د) نائب صدر
(ہ) اعزازی اراکین
(و) تاحیات اراکین؛ اور
(ز) اراکین۔

(۲) ذیلی دفعہ (۱) میں موجود کسی بھی امر کے باوجود اعزازی اراکین اور اراکین کے بغیر پہلی مرتبہ تشکیل ہونے والی اکادمی صحیح طور پر تشکیل شدہ تصور ہو گی۔
(۳) اکادمی کی کوئی بھی کاروائی یا فیصلہ کسی آسامی کے وجود یا نقصِ تشکیل کی وجہ سے باطل نہ ہو گا۔

5۔ اکادمی کے اغراض و مقاصد۔ ----- اکادمی کے اغراض و مقاصد یہ ہوں گے----

(الف) کلامِ اقبال کی تعلیم و تفہیم کی ترویج کرنا؛
(ب) کلامِ اقبال کی تعلیم و تفہیم میں وسعت دینے کے لیے خطابت اور علمیت قائم کرنا؛
(ج) تعلیمِ اقبال کے فروغ کے لیے کتب، مجلات، کتابچے شائع کرنا؛
(د) اکادمی کی رائے میں اقبال کی تعلیم و تفہیم میں مدد کرنے والے مصنفین کو انعامات، عطیات و اجر عطا کرنا، اور اس آرڈینینس کے مقاصد کے حصول کے لیے مصنفین سے معاہدے کرنا؛
(ہ) اقبال پر خطبات، گفتگو، مزاکرات، کانفرنسوں کا انعقاد کرنا اور بیرونِ ملک کلامِ اقبال، اس کی تعلیم پر ہونے والی کانفرنسوں میں وفود بھیجنا اور ایسے تمام کام کرنا جو اس سے متعلق ہوں یا جن سے اس تعلیم میں بڑھوتری یا منافع ہو؛
(و) اکادمی کی رائے میں اقبال کی تعلیم و تفہیم میں مدد کرنے والے دانشوروں کے ساتھ مقررہ طریقے سے شراکت کرنا؛
(ز) اکادمی سے ملتے جلتے مقاصد کے لیے بننے والی دیگر تنظیموں کے ساتھ تعاون، شمولیت یا الحاق عطا کرنا خواہ ان کا مقصد کلامِ اقبال کی تعلیم و تفہیم تک ہی محدود نہ ہو؛ اور
(ح) ایسے تمام کام کرنا جو اکادمی کے اغراض و مقاصد کے حصول کےلیے ضروری ہوں۔
۶، الحاق۔ --- اکادمی مرکزی حکومت کے اعلان نامہ نمبری ایف ۱۵-۱/۵۹/۵۴، مورخہ ۱۰ مارچ ۱۹۶۰ کے تحت قائم کردہ ادارہ تحقیقاتِ اسلامیہ سے الحاق شدہ ہو گی۔
7۔ صدر دفتر۔ --- اکادمی کے صدر دفتر کےلیے مقام کا فیصلہ مرکزی حکومت کرے گی۔
8۔ سرپرستِ اعلیٰ۔ --- صدرِ پاکستان اکادمی کا سرپرستِ اعلیٰ ہو گا۔
9۔ سرپرست۔ --- (۱) وہ تمام افراد اکادمی کے سرپرست تصور ہوں گے جو اس آرڈینینس کے اجراء سے پہلے ایکٹ کے تحت قائم کردہ اکادمی کے اعزازی سرپرست و سرپرست تھے۔

(۲) ہیتِ حاکمہ ممتاز افراد کو اکادمی کا سرپرست پننے کی دعوت دے سکے گی۔
10۔ صدر۔ --- وزیرِ تعلیم و سائنسی تحقیق، حکومتِ پاکستان، صدرِ اکادمی ہو گا۔
11۔ نائب صدر (۱) اکادمی کے نائب صدر کی نامزدگی مرکزی حکومت تین سال کے لیے کرے گی۔
(۲) صدر کی غیر موجودگی میں نائب صدر اکادمی اور اس کی ہیتِ حاکمہ کے اجلاس کی صدارت کرے گا۔
12۔ خازن(۱) اکادمی کے خازن کی نامزدگی مرکزی حکومت تین سال کے لیے کرے گی۔
(۲) خازن اکادمی کے مالی امور کا ذمہ دار ہو گا اور ہیتِ حاکمہ کو پیش کرنے کے لیے حسابات کی مناسب نگہداشت کرے گا۔
۱۴۔ اعزازی اراکین۔ --- ہیتِ حاکمہ مقررہ طریقے سے نامزد کر سکتی ہے---
(الف) ان انتہائی فاضل دانشوروں کو جنھوں نے اقبالیات کے فروغ کے لیے گراں قدر خدمات سرانجام دی ہوں۔
(ب) ایسے ممتاز افراد کو جنھوں نے اکادمی کے اغراض و مقاصد کے حصول کےلیے نمایاں خدمت کی ہو
کہ وہ اکادمی کے اعزاری ارکان بنیں۔
14۔ تاحیات اراکین۔ --- (۱) وہ تمام افراد اکادمی کے تاحیات اراکین تصور ہوں گے جو اس آرڈینینس کے اجراء سے پہلے ایکٹ کے تحت قائم کردہ اکادمی کے تاحیات اراکین تھے۔
(۲) کو رکن مقررہ شرائط پوری کرنے پر تاحیات رکن بن سکتا ہے۔
۱۵۔ اراکین۔ --- اقبالیات میں دلچسپی رکھنے والے افراد مقررہ طریقے سے انتخاب کے نتیجے میں اکادمی کے رکن بن سکتے ہیں۔
16۔ مراعاتِ رکنیت --- تاحیات اراکین اور اراکین درج ذیل مرعات کے مستحق ہوں گے:-
(الف) اکادمی کی اعزازی رکنیت و رکنیت کے لیے امیدوار نامزد کرنا؛
(ب) کتب خانہ اکادمی کی سہولیات سے استعمال کرنا۔
(ج) اکادمی کی جانب سے جاری ہونے والی کارروائیاں حاصل کرنا اور اکادمی کی مطبوعات ہیتِ حاکمہ سے منظور شدہ کم قیمت پر خریدنا؛
(د) اکادمی کے اجلاسوں میں پڑھے جانے کے لیے مقالات و خطابات پیش کرنا اور مقررہ طریقے سے اکادمی کے جرائد میں مقالات و مضامین چھپوانا؛ اور
(ہ) ہیتِ حاکمہ کے دو اراکین کا انتخاب کرنا۔
17۔ ہیتِ حاکمہ۔ (۱) اکادمی کی انتظامیہ اور نگرانی درج ذیل پر مشتمل ہیتِ حاکمہ کے کلی اختیار میں ہو گی ---
(الف) صدر، جو کہ ہیتِ حاکمہ کا سربراہ بھی ہو گا؛
(ب) نائب صدر؛
(ج) خازن؛
(د) ناظم، ادارہ تحقیقاتِ اسلامیہ
(ہ) تاحیات اراکین و اراکین میں سے مقررہ طریقے سے منتخب کردہ دو افراد
(و) وزارتِ تعلیم و سائنسی تحقیق کا ایک نمائندہ؛ اور
(ز) مرکزی حکومت کے نامزد کردہ پانچ افراد۔

(2) ہیتِ حاکمہ کی کوئی بھی کاروائی یا فیصلہ کسی آسامی کے وجود یا نقصِ تشکیل کی وجہ سے باطل نہ ہو گا۔
(۳) بربنائے عہدہ اراکین کے علاوہ ہیتِ حاکمہ کے دیگر اراکین کے عہدہ کی مدت تین سال ہو گی۔
(۴) ہیتِ حاکمہ کے کسی نامزد رکن کی آسامی قبل از وقت خالی ہونے کی صورت میں مجاز مقتدرہ کی جانب سے نئے رکن کی تعیناتی سابقہ رکن کی باقی ماندہ معیاد کے لیے ہو گی۔
18۔ ہیتِ حاکمہ کے اختیارت۔--- ہیتِ حاکمہ درج ذیل اختیارت کی حامل ہو گی---
(۱) اکادمی کی جائیداد و سرمایہ بشمولہ خزینہ برائے مخصوص غرض کے انتظام و انصرام و نگرانی کرنا اور اکادمی کی جانب سے معاہدے کرنا؛
(۲) اکادمی کی مالیات، حسابات، پونجی کو منظم اور باقاعدہ کرنا اور اکادمی کے عملہ کی تعیناتی، شرائطِ ملازمت، پیمانہ تنخواہ کو تابع کرنے کی قوائد بنانا؛
(۳) اس آرڈینینس کے مقاصد کے لیے ایسے قواعد بنانا جو اس آرڈینینس کی کسی دفعہ سے متصادم نہ ہوں؛ اور
(۴) ایسے تمام امور سرانجام دینا جو اکادمی کے اغراض و مقاصد کے حصول کے لیے ضروری ہوں۔
19۔ مجلسِ عاملہ۔ --- (۱) اکادمی کے روزمرہ معاملات کے انتظامات کے لیے ایک مجلسِ عاملہ پوگی۔
(۲) مجلسِ عاملہ درج ذیل پر مشتمل ہو گی:-
(الف) نائب صدر؛
(ب) وزارتِ تعلیم و سائنسی تحقیق کا ہیتِ حاکمہ میں نمائندہ؛
(ج)
(ج) خازن؛ اور
(د) ہیتِ حاکمہ کے اپنے اراکین میں سے نامزد کردہ دو افراد
(ہ) ناظمِ اکادمی مجلسِ عاملہ کا معتمد ہو گا۔
۴۔ مجلسِ عاملہ کے فرائضِ منصبی و اختیارت اور ہیتِ حاکمہ سے دو اراکین کی تعیناتی مقررہ طریقہ کار کے مطابق ہو گی۔
20۔ ناظم۔ --- (۱) ہیتِ حاکمہ مقررہ معیاد اور شرائط و قیودِ ملازمت کے تحت ناظم کی تعیناتی کرے گی۔
(۲) ہیتِ حاکمہ کی ہدایات کے تحت ناظم تحقیقی منصوبوں اور امورِ اکادمی کا لائحۂ عمل تیار کرگے کا اور اس پر عمل درامد کے لیے وہ ہیتِ حاکمہ کو جوابدہ ہو گا۔
(۳) ناظم اکادمی ہیتِ حاکمہ کے فیصلوں پر عمل درامد اور اکادمی کے دفاتر کے انتظامی امور کے سلسلے میں ہیتِ حاکمہ کو جوابدہ ہو گا۔
21۔ اکادمی کی پونچی--- اکادمی کی پونچی درج ذیل پر مشتمل ہو گی۔---
(الف) مرکزی حکومت و صوبائی حکومتوں کی امداد؛
(ب) معاوضہ رکنیت؛
(ج) عطیات؛
(د) اکادی کی مطبوعات کی فروخت و دیگر ذرایع آمدن۔
22۔ تنقیح--- اکادمی کے حسابات کا سالانہ محاسبہ ہیتِ حاکمہ کا نامزد کردہ قابل محاسب کرے گا۔
23۔ نام استعمال کرنے کی ممانت ۔۔۔۔(۱) کوئی شخص یا ادارہ اکادمی کا نام اس اکادمی کا حوالہ دینے کے علاوہ کسی دیگر مقصد کے لیے استعمال نہ کرے گا۔
(۲) ذیلی دفعہ (۱) کی خلاف ورزی کرنے والے کو چھ ماہ تک قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی سکتی ہوں گی۔
24۔ تنسیخ و استثیات، وغیرہ۔--- (۱) اقبال اکادمی ایکٹ ۱۹۵۱ (۱۹۵۱ کا چوتھا) منسوخ کر دیا گیا ہے۔
(۲) درج بالہ تنسیخ و منسوخ شدہ ایکٹ کے کسی بھی امر کے باوجود، اس آرڈینینس کے نفاذ سے پہلے ایکٹ کے تحت بننے والی اکادمی کے اراکین اس آرڈینینس کے تحت اکادمی کے اراکین ہوں گے اور اس آرڈینینس کے تحت اکادمی کی تشکیل تک اپنے عہدوں پر برقرار رہیں گے۔
(۳) مذکورہ آغازِ نفاذ پر اکادمی کے جاری کردہ، استعمال کردہ، استفادہ کیے گئے، تحویل شدہ، ملکیت کیے گئے یا تفیض شدہ تمام حقوق، اثاثے، حقوق اور مفادات خواہ کسی قسم کے بھی ہوں اور تمام وجوبات یا قانونی طور پر اکادمی کے خلاف کسی بھی قسم وجوبات، اس آرڈینینس کے تحت قائم کردہ اکامی کو منتقل ہو جائیں گے۔

محمد ایوب خان،
نشانِ پاکستان، ہلالِ جرات،
فیلڈ مارشل،
صدر

 
علامت سر ورق
علامت تعارف
علامت تنظیمی خاکہ
علامت قواعد و ضوابط
علامت رکنیت
علامت مطبوعات
علامت تقریبات
علامت کتب خانہ
علامت پیشکش
علامت ملازمتیں
علامت رابطہ
تشکیل کندہ: فیصل وحید، زیرِ نگرانی: محمد نعمان چشتی